فہرست

خلیفہ فتح الدین سومرو المعروف بیدار مورائی



اشاعت: ۲۳ دسمبر ۲۰۱۳

خلیفہ فتح الدین سومرو المعروف بیدار مورائی

تحریر: عبدالرحیم نظامانی

 

حضرت خلیفہ مولانا فتح الدین سومرو غفاری بخشی طاہری رحمۃ اللہ علیہ، المعروف ”بیدار مورائی“، حضرت سیدی و مرشدی محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی کے انتہائی پیارے اور مخلص خلفائے کرام میں سے تھے۔ آپ نے زندگی کا اکثر حصہ یعنی مکمل 60 برس تین کاملین واصلین اولیاء اللہ کی صحبت و خدمت میں گذارا، یعنی حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ، حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور حضرت سجن سائیں مدظلہ العالی۔

آپ ایک مشہورو معروف ادیب و مصنف تھے اور پچاس سے زیادہ اردو اور سندھی کتابوں کے مؤلف تھے۔ آپ ”بیدار مورائی“ کے ادبی نام سے معروف تھے، اور کبھی اپنے لئے مزاحیہ ادبی نام بھی استعمال کرتے تھے، جن میں ”علامہ ہنڑ کھنڑ“، ”علامہ اُپھٹ مار“، اور ”سُجاگ سومرو“ شامل ہیں۔

مولانا فتح الدین صاحب کے والد ماجد کا نام جان محمد سومرو تھا۔ آپ مورو، ضلع نوشہرو فیروز کے رہائشی تھے جو سندھ کے عین وسط میں واقع ہے۔ آپ کی ولادت 5 فروری 1937 (ذی قعدہ 1355ھ) جمعہ کے روز مورو میں ہوئی۔ آپ مزا حیہ فرماتے تھے کہ میری سالگرہ پر پورے پاکستان میں چھٹی ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ 1990 سے لیکر اب تک 5 فروری کو پاکستان میں کشمیر ڈے ہوتا ہے اور اس دن تعطیل عام ہوتی ہے۔

آپ نے ابتدائی پرائمری اور سیکنڈری تعلیم مورو میں 1949 میں مکمل کی۔1955 میں آپ نے گورنمنٹ ہائی اسکول، نیو ہالا سے میٹرک کیا۔ اسی سال میٹرک کے امتحان کا رزلٹ آنے سے قبل ہی آپ کو جونیر سیکنڈری ٹیچر کی ملازمت مل گئی جس میں 75روپے تنخواہ ملتی تھی۔ آپ نے مدرسہ رحمانیہ مورو سے عربی و فارسی میں دینی تعلیم بھی حاصل کی۔

سولہ برس کی عمر میں، 1953ء میں آپ نے حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ کی زیارت کی اور رحمت پور شریف لاڑکانہ میں ان کے دستِ اقدس پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت کی۔ گیارہ سال تک آپ حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ کی صحبت میں آتے جاتے رہے اور ان سے فیوض و برکات حاصل کیے۔ دسمبر 1964ء میں حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے وصال فرمایا۔ مولانا بیدار نے 1965 میں فقیر پور شریف ضلع دادو میں ان کے جانشین اعظم حضرت خواجہ سوہنا سائیں قدس اللہ سرہ کے دست مبارک پر بیعت ثانی کی اور ان کے وصال 1983ء تک 18 سال ان کی صحبت و خدمت میں رہے۔

1970ء میں فقیرپور شریف میں حضرت سوہنا سائیں نے آپ کو خلافت عطا فرمائی۔ اس وقت آپ کی عمر 33 سال تھی۔ 1974ء میں اپنے پیر و مرشد کے حکم سے آپ نے حضرت خواجۂ خواجگان قطب دوران پیر مٹھا رحمت پوری قدس سرہ کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب شایع کی۔ اس کتاب کا نام حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے ”گنجینۂ حیات غفاریہ“ رکھا۔ 1980ء میں آپ نے اپنے شیخ طریقت حضرت پیر سوہنا سائیں قدس اللہ سرہ العزیز کے مکتوبات شریف جمع کرکے شایع کروائے۔

دسمبر 1983ء میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے وصال فرمایا۔ اسی سال آپ نے ان کے جانشین حضرت محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی کے دست مبارک پر درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو میں بیعت ثالث کی۔ 2013ء میں اپنے وصال تک آپ مکمل 30 سال تک حضرت سجن سائیں کی صحبت و خدمت میں رہے اور طریقہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ طاہریہ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے۔

مولانا بیدار نے حضرت غوث زمان خواجہ سوہنا سائیں قدس سرہ کی سوانح حیات سندھی میں ”سوانح حیات سوہنا سائیں“ کے نام سے دو جلدوں میں لکھی جو 1985 اور 1986 میں شایع ہوئیں۔

بیالیس (۴۲) سال ملازمت کرنے کے بعد 1997 میں آپ ہائر سیکنڈری ٹیچر کے طور پر رٹائر ہوئے۔ 1998ء میں آپ نے حرمین شریفین کا سفر کیا۔

1999ء میں آپ جماعت اصلاح المسلمین کے ترجمان سندھی رسالہ ”الاصلاح“ کے چیف ایڈیٹر مقرر ہوئے جو دادو سے جاری ہوتا تھا۔ آپ نے ”ڈوریندیوں ڈِسن“ کے نام سے سندھی میں حضرت قبلہ عالم سجن سائیں مدظلہ العالی کے تبلیغی اسفار پر مشتمل سفرنامہ لکھا جو نومبر 1999 میں شایع ہوا۔ اسی مہینہ میں آپ کے ترتیب دئیے گئے حضرت قبلہ عالم کے ملفوظات شریف بھی ”کاملن جو کلام“ کے نام سے شایع ہوئے۔

آپ کے مختلف مضامین کا ایک مجموعہ 2011ء میں ”محبت ملھ مہانگو“ (سندھی) کے نام سے شایع ہوا۔

آپ کی اکثر کتابوں کے موضوع اپنے تینوں مشائخ کرام کی سوانح، ملفوظات، مکتوبات، علمی و تبلیغی خدمات وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ کچھ دینی افسانے اور اصلاحی ناول بھی آپ نے تحریر فرمائے، اور چند کتابیں دین اسلام کی حقانیت پر بھی لکھیں۔ آپ کے کئی مضامین ابھی تک غیر شایع شدہ ہیں۔

اردو میں بھی آپ نے کچھ کتابیں لکھیں، جن میں حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ کی سوانح حیات ”گلستان غفاریہ“ (2008)، حضرت خواجہ سجن سائیں مدظلہ العالی کی سوانح و خدمات پر مشتمل ”گلشن غفاریہ“ (1987) شامل ہیں۔

آپ کو اپنے تینوں پیران کرام سے والہانہ محبت تھی، اور وہ بھی آپ سے محبت فرماتے تھے۔ حضرت قبلہ عالم محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی تو آپ کو اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے، جیسا کہ آپ نے ایک مکتوب میں بیدار مورائی صاحب کو لکھا ہے: ”کیونکہ آپ ہمارے اپنے ہیں، بلکہ ہمارے گھر کے فرد ہیں۔ آقا و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: سلمان من اھلی۔ یہ الفاظ کتنے پیارے ہیں۔ بیشک حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا شیوا وفا تھی۔ یہ وصف آپ کے اندر بھی خوب ہے۔“۔

حضرت مولانا بیدار مورائی نے اپنے محبوب مرشد خواجہ سجن سائیں مدظلہ العالی کے ساتھ کئی تبلیغ سفر کئے۔ پنجاب کے سفروں میں آپ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، کوہاٹ، مری، اسلام آباد وغیرہ میں حضرت کے ہمسفر رہے۔ خیبر پختونخوا میں بنوں اور وزیرستان تک گئے۔ سندھ کے اندر جھڈو، مٹھی (تھرپارکر)، ٹھٹہ، مکلی، مال ماڑی، گھارو وغیرہ، اور بلوچستان میں کوئٹہ، خضدار، وندر، اُتھل وغیرہ میں اپنے پیر و مرشد کی ہمسفری کی سعادت حاصل کرتے رہے۔

ان اسفار کے دوران آپ کو اپنے پیر و مرشد کے ہمراہ کئی اولیائے کرام کے مزارات و مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ ان میں مندرجہ ذیل عظیم الشان ہستیاں شامل ہیں:

۱۔ حضرت خواجہ عبدالغفار فضلی رحمت پوری المعروف پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ، رحمت پور شریف، لاڑکانہ۔

۲۔ حضرت خواجہ عثمان مروندی المعروف شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ، سیوہن شریف، سندھ

۳۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، بھٹ شاہ، نزد ہالا، سندھ

۴۔ حضرت مخدوم نوح سرور رحمۃ اللہ علیہ، ہالا، سندھ

۵۔ حضرت مخدوم عبدالرحیم گرہوڑی رحمۃ اللہ علیہ، گرہوڑ شریف، ضلع میرپور خاص، سندھ

۶۔ حضرت خواجہ ابوالقاسم نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ، مکلی، ضلع ٹھٹہ

۷۔ حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ علیہ، ٹھٹہ

۸۔ حضرت خواجہ فضل علی قریشی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ، مسکین پور شریف، ضلع مظفر گڑھ، پنجاب

۹۔ حضرت داتا گنج بخش سید علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ، لاہور

۱۰۔ حضرت مخدوم محمد طاہر نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ، لاہور

۱۱۔ حضرت فرید الدین گنج شکررحمۃ اللہ علیہ، پاک پٹن شریف، پنجاب

۱۲۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ، گولڑہ شریف، نزد راولپنڈی، پنجاب

۱۳۔ حضرت سید عبداللطیف قادری المعروف بری امام رحمۃ اللہ علیہ، اسلام آباد

۱۴۔ حضرت غوث بہاء الحق سہروردی ملتانی رحمۃ اللہ علیہ، ملتان

۱۵۔ حضرت شاہ رکنِ عالم سہروردی رحمۃ اللہ علیہ، ملتان

۱۶۔ حضرت حاجی دوست محمد قندھاری رحمۃ اللہ علیہ، موسیٰ زئی شریف، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا

۱۷۔ حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی رحمۃ اللہ علیہ، موسیٰ زئی شریف

۱۸۔ حضرت خواجہہ محمد سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ، موسیٰ زئی شریف

بیدار مورائی صاحب اپنے مشائخ کرام کی آڈیو اور وڈیو تقاریر محفوظ کرنے کا شوق رکھتے تھے۔ آپ نے حضرت محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی کی 350 سے زیادہ آڈیو کیسٹیں محفوظ رکھی ہیں، اور دیگر سی ڈیز وغیرہ بھی جمع کی ہیں۔

مولانا بیدار مورائی نے پچاس سے زیادہ کتب تصنف و تالیف فرمائیں۔آپ کو لکھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ حضرت پیر مٹھا کے زمانہ مبارک میں آپ نے 6 کتب لکھیں، حضرت سوہنا سائیں کے دور میں 20 اور سیدی و مرشدی حضرت سجن سائیں کی خدمت کے دوران 27 كتب لكھیں۔ آپ مختلف رسالوں اور اخباروں میں کالم و مضامین بھی لکھتے رہے، جن میں مہران اخبار، حیدرآباد (1965)، اخبار الوحید حیدرآباد (1970)، الاصلاح اور الطاہر وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کے ادیب دوستوں میں منصور ویراگی، صالح محمد شاہ، عبدالحکیم ارشد، انوار ہالائی، کریم بخش چنہ، مولانا خیر محمد نظامانی، حافظ احمد احسن چنہ اور فقیر رحمت اللہ عاجز لاشاری وغیرہ شامل ہیں۔

مولانا بیدار مورائی سندھ کے ایک مایہ ناز ادیب تھے۔ آپ کا انداز تحریر نہایت شائستہ، عام فہم اور دلکش ہوتا تھا، جس میں اکثر مزاح و دل لگی کے انداز میں دینی و اصلاحی نصیحتیں ہوتی تھیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کی طرز پر سادہ انداز میں کہانیاں اور ناول بھی لکھتے تھے، جن کے اندر موتیوں سے زیادہ قیمتی نصائح و ہدایات مندرج ہوتی تھیں۔

آپ کی آخری کتاب ”منہنجی کہانی منہنجی زبانی“ (سندھی) تھی، جس کی طباعت ابھی آخری مراحل ہی میں تھی کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ اپنی وفات سے پہلے آپ نے ایک خط بنام خلیفہ عبداللہ صالبانی صاحب میں لکھا کہ ”ہوسکتا ہے کہ میری زندگی کی یہ آخری یادگار کتاب ہو“۔

خلیفہ بیدار مورائی رحمۃ اللہ علیہ مورو صوبہ سندھ میں رہتے تھے۔ آپ کا انتقال بدھ کے دن 18 دسمبر 2013ء کو شام 7:15 بجے اپنے گھر مورو میں ہوا۔ یہ 15 صفر 1435ھ کی رات تھی۔ وصال کے وقت آپ کی عمر 76 برس تھی۔آپ کی نماز جنازہ اگلے دن 19 دسمبر 2013 کی دوپہر کو آپ کے محبوب مرشد حضرت خواجہ محمد طاہر بخشی نقشبندی المعروف محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی نے ادا فرمائی، جس میں پورے ملک سے کئی خلفائے کرام، علمائے عظام اور فقراء نے شرکت کی۔ آپ کی تدفین خلیفہ قبرستان، مورو، صوبہ سندھ میں ہوئی۔

زہے نصیب کہ ایسی حیات اور ایسی موت اور ایسی نماز جنازہ خوش نصیبوں ہی کے حصہ میں آتی ہے۔ یہ بھی آپ کی خوش بختی ہے کہ آپ کے ہر دو مشائخ طریقت (پیر مٹھا اور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہما) دسمبر کے مہینہ میں واصل باللہ ہوئے اور آپ کا وصال بھی دسمبر میں ہوا۔

آپ کی اولاد میں پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ آپ کے فرزندوں میں بڑے بیٹے پروفیسر شمشاد احمد سومرو بھی ایک اچھے ادیب ہیں اور خلیق اکیڈمی مورو کے ڈائریکٹر ہیں۔ انجنیئر مسعود احمد سومرو جماعت کی خدمت میں انتہائی سرگرم ہیں اور الاصلاح نیٹورک کے اراکین میں شامل ہیں۔ان کے علاوہ عبدالقادر سومرو، الطاف احمد سومرو اور محمد نعمان سومرو ہیں۔

آپ کی نماز جنازہ حضرت محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی نے پڑھائی