| فہرست |
مولانا جان محمد سولنگی رحمۃ اللہ علیہ |
|
|
اشاعت: ۲۲ دسمبر ۲۰۱۳ مولانا جان محمد سولنگی رحمۃ اللہ علیہ
افسوس صد افسوس کہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پیارے خلیفہ، معتمد علیہ مشیر، دوست رفیق، بہترین خطیب، بے لوث مبلغ اور مدبّر حضرت مولانا جان محمد صاحب بروز منگل ۲۵ ربیع الاول ۱۴۱۱ھ کو اس فانی جہاں سے کوچ کرکے راہی ملک بقا ہوئے۔ انّا للہ وانّا الیہ راجعون۔ مولانا صاحب موصوف کو اللہ تعالیٰ نے جن عمدہ اوصاف و اخلاق سے نوازا، بلاشبہ ایسے افراد ملک و ملت کے لئے غیر معمولی اہمیت و ضرورت کے حامل ہوتے ہیں۔ گو آپ ۱۷ گریڈ کے آفیسر تھے لیکن آپ کے رہن سہن، بات چیت سے جس قسم کی باوقار سادگی، فقیری محسوس ہوتی تھی، کم ہی افراد میں یہ وصف پائی جاتی ہے۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ مثالی دینی تبلیغ، دور و نزدیک کے بے شمار سفر، حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کی منشاء کے مطابق خلفاء، علماء اور جماعت کے فقراء سے رابطہ، دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ، خواہ روحانی طلبہ جماعت کے احباب سے عملی تعاون اور عمدہ تجاویز تادیر یاد رہیں گے۔ مدرسہ جامع عربیہ غفاریہ اللہ آباد شریف کے تا دم اخیر رکن خاص رہے۔ طلبہ و اساتذہ سے آپ کی مثالی ہمدردی اور ہر موقع پر تعاون مثالی تھا۔ تبلیغی سفروں کی جو آپ نے تفصیل تحریر کی ہے اس کے مطابق ۱۴۱ مقامات پر تو حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی قیامت میں گئے تھے۔ جبکہ حضرت قبلہ سید نصیر اللہ شاہ اللہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد حسن صاحب، مولانا عبدالغفور صاحب، مولانا حاجی عبدالسلام وزیر، مولانا حاجی محمد علی صاحب، مولانا نسیم احمد صاحب، مولانا خالد مغل صاحب، مولانا محمد ایوب صاحب و دیگر خلفاء کرام کی قیادت میں ان کی جماعتوں میں بھی گئے تھے۔ اس کے علاوہ اندرون سندھ بالخصوص ہالا، خیرپور، رانی پور اور پٹارو تو آپ کے تبلیغی حدود میں آتے تھے۔ جہاں وقتًا فوقتًا جیب سے کرایہ خرچ کرکے تشریف لے جاتے۔ ان علاقوں میں اصلاح المسلمین، روحانی طلبہ جماعت خواہ خواتین کی اصلاح کے لئے جو آپ نے خدمات انجام دیں، کوئی اللہ کا ولی ہی یہ کاوشیں کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطابت کا بھی عمدہ انداز عطا فرمایا تھا۔ درگاہ اللہ آباد شریف اور فقیرپور شریف میں ہونے والے سالانہ اجتماعات میں سالانہ تبلیغی کارگذاری پیش کرنے کے لئے آپ کو حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے مقرر فرمایا تھا۔ جسمانی عوارض کی وجہ سے درگاہ اللہ آباد شریف کے ۱۴۱۰ھ سالانہ عرس مبارک پر رپورٹ نہیں پیش کرسکتے تھے، لیکن درگاہ فقیرپور شریف کے سالانہ اجتماع میں تبلیغی رپورٹ پیش کرنے کے لئے حضرت سجن سائیں مدظلہ نے خصوصی امر فرمایا تھا۔ حسب ارشاد آپ نے جس شگفتگی سے فی البدیہہ خطاب فرماکر سامعین کو محظوظ کیا، اللہ اللہ کی پرفیض صداؤں میں جس طرح سامعین سے ذکر اللہ پر دوام اور دین کی تبلیغ کے لئے آگے بڑھنے کے لئے ہاتھ اٹھاکر وعدہ کرنے کو کہا اور ہر طرف سے لبیک کی صدائیں بلند ہوئیں یہ منظر دیکھنے ہی سے تعلق رکھتا تھا اور یہ اس بار نہیں ہر بار ہوتا تھا۔ اور یہ سب کچھ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور حضرت سجن سائیں مدظلہ سے قلبی محبت، باطنی نسبت اور آپ کی نظر کرم کا صدقہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی کثیر جماعت میں سے سب سے زیادہ آپ کے ملفوظات، واقعات، تبلیغی اسفار، کرامات اور خدمات مولانا جان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اکٹھے کئے تھے، اور حِین حیات میں اس احقر سیہ کار کو دیئے تھے تاکہ بتدریج ان کی اشاعت کی سعی کرے۔ الحمدللہ مولانا صاحب موصوف کی زندگی ہی میں “الاصلاح” رسالہ میں “ارشادِ مرشد” کے عنوان سے حضور نور اللہ مرقدہ کے ملفوظات کا سلسلہ شروع کیا، جسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ سلسلہ آئندہ جاری رہے گا۔ مولانا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے مثالی قوتِ حافظہ عطا فرمایا تھا۔ تاریخی واقعات خواہ مشائخ طریقت کے حالات بالخصوص حضرت پیر مٹھا اور حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدھم کے حالات و واقعات آپ کو ازبر یاد تھے۔ درگاہ اللہ آباد شریف آمد پر عمومًا ہر بار مدرسہ میں تشریف لاکر احقر کے پاس بیٹھتے اور ایسے واقعات سناکر محظوظ فرماتے اور کئی گھنٹوں تک یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔ آپ کو شعر و شاعری سے بھی خاص مناسبت تھی۔ پیر کامل کی تعریف میں آپ کے اردو، سندھی اشعار جماعت میں کافی مقبول ہوئے۔ خاص کر آپ کا یہ شعر آ دیکھ میرا پیر جو محبوب خدا ہے تو انسان کے علاوہ جنوں میں بھی اس قدر مقبول ہوا کہ جب بھی سید مولانا محمد اسماعیل شاہ صاحب مدظلہ یہ شعر پڑھتے تو ہزاروں کی تعداد میں جنات بھی آکر سنتے تھے۔ انتقال پرملال:کافی عرصہ سے آپ کے دل میں یہ خیال مؤجزن تھا کہ اب ملازمت سے سبکدوش ہوکر بقیہ زندگی حضرت سجن سائیں مدظلہ کی صحبت اور دین کی خدمت میں گزاروں گا۔ بارہا احقر اور دیگر احباب سے یہ تذکرہ فرمایا۔ وفات سے چند دن پہلے محترم ڈاکٹر نور احمد برڑو صاحب (جن کے یہاں آپ خیرپور میں رہتے تھے) کو بھی کہا کہ اگرچہ کچھ عرصہ تک مزید ملازمت کی گنجائش ہے، لیکن اب دسمبر میں سبکدوش ہونے کا ارادہ ہے۔ لیکن شاید مالک الملک کو یہ منظور نہ تھا اور ۱۴ ربیع الاول کو آپ کی طبیعت خراب ہونے لگی اور آپ نے یہاں موجود فقراء کو کہا معاف کرنا میری طبیعت بگڑ رہی ہے، ہوسکتا ہے آپ کو سخت سست کہہ لوں۔ مجھے درگاہ اللہ آباد شریف یا سیہون شریف (جہاں آپ کے فرزند اور بھائی رہتے تھے) پہنچائیں۔ اس کے بعد جیسے ہی غشی طاری ہوئی افاقہ نہ ہوا۔ سکھر میں علاج سے فائدہ نہ ہونے سے لاڑکانہ لے جاتے ہوئے نوڈیرو کے قریب آپ کی روح پرفتوح اعلیٰ علیین کو روانہ ہوگئی۔ اِنّا للہ و انّا الیہ راجعون۔ رات کو ٹیلی فون پر اطلاع ملنے پر صبح کو حضرت سوہنا سجن سائیں مدظلہ نے نہایت افسوس سے اس سانحہ کا اعلان فرمایا اور حاضرین کو تلاوت قرآن کا امر فرماکر بنفسِ نفیس سیہون تشریف لے گئے، اور حضرت شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے روضۂ اقدس کے قریب خود نماز جنازہ پڑھا کر کندھا دیکر اپنے پیارے خوش قسمت مخلص مرید اور خلیفہ مولانا جان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ابدی آرام گاہ کو روانہ فرمایا۔ شاید اسی موقع کی مناسبت سے برسوں پہلے مولانا موصوف نے یہ شعر بنایا: جان محمد ضرور، ايندو پاڻ حضور بلاشبہ ایسی موت بھی قابلِ رشک ہے جس میں وقت کے ولی کامل شریک ہوں، نماز جنازہ پڑھائیں اور راہی ملک بقا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی سعادت سے سرفراز کرے آمین۔ اس عاجز اور مولانا مفتی عبدالرحمان اور حافظ عاشق علی صاحب نے بھی بڑی کوشش کی کہ نماز جنازہ میں جاکر شامل ہوں، لیکن نہیں پہنچ سکے۔ الحمدللہ پھر بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ آخری دیدار سے مشرف ہوئے۔ سوگواروں میں مولانا صاحب کی والدہ، زوجہ محترمہ اور دو فرزند، مولانا مطیع اللہ (جو کہ عالم فاضل ہیں)، عتیق اللہ چھوڑگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل کے ساتھ مولانا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ (ماخذ الطاہر سلسلہ نمبر ۱۸ برائے رجب ۱۴۱۱ھ بمطابق فروری ۱۹۹۱ء)
|